بُخارِ دل

by Other Authors

Page 300 of 305

بُخارِ دل — Page 300

300 مرزا غالب اور اُن کے طرفدار ایک غزل غالب کے رنگ میں ) مرزا غالب مشکل گوشاعر بھی تھے اور فلاسفر بھی لیکن جب جام دو آتشہ کے نشہ میں شعر کہتے تھے۔تو کبھی کبھی کوئی لفظ یا فقرہ شعر میں سے محذوف بھی ہو جاتا تھا۔اگر چہ کھینچ تان کر اُس شعر کے معنی تو نکل سکتے تھے مگر اس کھینچا تانی کے لئے بھی ماڈرن دماغ ہی چاہئے تھا۔شاعر پرستی بھی ایک فیشن ہے۔اس موجودہ زمانے میں جب غالب بے حد ہر دلعزیز ہو گئے ہیں تو ہر شخص خواہ لائق ہو یا نالائق اُن کی تائید کرنے لگا ہے۔بے معنی اشعار کے معنی نکلنے لگے ہیں اور ٹٹ پونچیئے بھی ”غالب دان“ بن گئے ہیں جو باتیں مومن ، ذوق ، اور دیگر آئمۃ الشعراء کی سمجھ میں نہ آئی تھیں وہ آج کل کے سینما بین نوجوانوں کو نظر آنے لگی ہیں۔اُس زمانہ کے ایک مشاعرہ میں ایک بڑے قادر الکلام شاعر نے خود مرزا غالب کو مجلس میں مخاطب کر کے یہ کہا تھا کہ کلام میر سمجھے اور کلام میرزا سمجھے مگر ان کا کہا یہ آپ سمجھیں یا خدا سمجھے اور غالب آپ بھی اپنے اس نقص کے معترف تھے کہ میرے بعض اشعار بے معنی ہوتے ہیں، چنانچہ خود اُن کا ہی کلام ہے کہ نہ سہی گر مرے اشعار میں معنی نہ سہی