بُخارِ دل

by Other Authors

Page 298 of 305

بُخارِ دل — Page 298

298 حلوہ سوہن بھی کل سے ختم ہوا ورنہ اُس کا بھی کچھ سہارا تھا تیل مٹی کا لینے جائے کون؟ کپڑے دھوبی کے ہاں سے لائے کون؟ کون کوڑے کو گھر سے صاف کرے؟ کون تہہ بستر و لحاف کرے؟ کون گھر کی کرے نگہبانی؟ کون تازہ وضو کو دے پانی؟ کون بازار جا کے سودا لائے ڈاک میں خط کو کون ڈال آئے؟ بس خدا کے لئے کرو جلدی باغ ہو یا چراغ یا سندھی آدمی ہو وہ یا کہ ہو حیوان لیک رکھتا ہو صورت انسان ہاتھ رکھتا ہو وہ پکانے آنکھ منہ پر کو پیر رکھتا ہو آنے جانے کو پر ہو دیکھنے کے لئے کان ہوں تاکہ بات سُن لیوے عقل کچھ ہو، تو اور بھی اچھا گونگا بیشک ہو کچھ نہیں پروا منہ میں ہوں دانت سب یا کچھ کم اس سے مطلب نہیں ہیں رکھتے ہم گنجا ہو ہو یا ہوں سر پر بال خواہ آنکھوں میں ہو پڑے پڑبال سر غالباً سے خواہ نائی ہو ڈوم، یا گوجر ہو چلاہا تو اور بھی بہتر ہے کہ باغ بافندہ ہو گیا ہو گا اب تلک اچھا بھیج دو اُس کو ڈاک کے رستے سیدھا یاں آن کر کے وہ دم لے یہ مصیبت جو لکھ کے ہے بھیجی اس پہ ہر گز کرے نہ کوئی ہنسی ہے اُس کو سب کچھ ہی کرنا پڑتا ہے بے وطن آدمی جو ہوتا