بُخارِ دل — Page 297
297 باقی چاول بچے بچے سو رکھ چھوڑے صبح کو دُودھ سے وہ کھائے گئے کو پھر وہی تھا فکر طعام لیک ہمت نہ تھی کہ کرتا کام انتڑیاں پڑھ رہی تھیں یا حق ہو اور اندھیرا بھی چھا گیا ہر سُو شام اوڑھ چادر گیا انارکلی لے کے پہلو میں کاسئہ خالی شور با چربی دار اور پھلکے سب سے چُھپ کے چھپا کے مول لئے نصف سالن رکھا برائے سحر نصف باقی سے کی وہ رات بسر کے لئے فجر کو خمیری نان کو خمیری نان اور دن بھر کا یوں کیا سامان شام کو پانچ جب بجے ٹن ٹن چڑھ کے ٹمٹم پر پہنچا اسٹیشن ایک خریدا پلیٹ فارم ٹکٹ اور ہوٹل میں جا گھسا جھٹ پٹ اتنا کھایا کہ اشتہا نہ رہی اشتہا کیا کہ اشتہا نہ رہی آج تو خوب مینہ برستا ہے دانت سے دانت میرا بجتا ہے گیا ہے درد کوئی نہیں جو لائے دوا یا کہ دے سینکنے کو آگ جلا لا کے کھائی کچوریاں ہیں سرد قم پاس معدہ میں ہو کوئی تکلیف رات کو ہو اگر کوئی ایسا نہیں جو لیوے خبر ہو کا عالم ہے آج کا دن رات ایک میں ہوں یا خدا کی ذات میں تو آیا یہاں تھا پڑھنے کو نہ کہ کھانے کا فکر کرنے کو ایسی تعلیم چولہے میں جائے جبکہ چولہے کا فکر سر کھائے