بُخارِ دل

by Other Authors

Page 296 of 305

بُخارِ دل — Page 296

296 لوہے کی ایک انگیٹھی گھر میں تھی اور قدرے پڑا ہوا تھا گھی کوئلوں کا لگا ہوا تھا ڈھیر اور چاول بھی رکھے تھے دو سیر آدھی بوتل جو تیل کی پھونکی تب کہیں گھنٹہ بھر میں آگ جلی بھر گیا گھر دھوئیں سے سر تا سر ہو گیا آنسوؤں سے چہرہ تر آنکھ تھی سُرخ ناک تھی جاری تیل کی بُو نے عقل تھی ماری جس گھڑی مانجھنے پڑے برتن آ گئیں یاد مادر شفین ہاتھ منہ کپڑے سب ہوئے کالے جیسے ہوتے ہیں کوئلے والے دو گھڑوں کا لنڈھا دیا پانی تب ہوئی صاف جا کے اک ہانڈی چاولوں الغرض کو بعد جو میں لگا دھونے دھوتے دھوتے میں بہہ گئے آدھے قصه بسیار کر دیا دیچی کو چولہے سوار! گزرے ہوں گے ابھی نہ پانچ منٹ کہ لگی ہونے دَر پہ گھٹ گھٹ گھٹ ایک صاحب یکا یک آ دھمکے اور آتے ہی کان کھانے لگے ظاہر اگر چہ اُن سے تھیں باتیں دل مگر لگ رہا تھا ہانڈی میں سے انہیں کیا رخصت پر نہ پوچھو برنج کی حالت نیچے گھر چن کی بن گئی پیڑی اوپر اوپر کے بن گئی لیٹی بعد اُس کے جو انڈے رکھے تھے اک رکابی میں لے کے بھون لئے حق نے جو کچھ دیا لیا میں نے کھا کے شکر خدا کیا میں نے مشکلوں