بُخارِ دل — Page 292
292 افسوس پر کہ شادی یہ تقدیر میں نہ تھی قسمت میں بدنصیبی تھی ایسی لکھی ہوئی دُنیا میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی سچ پوچھئے تو جیتے ہی جی گویا مرگئی گزرا وہ اس کے ساتھ کہ تاب رقم نہیں صدمہ ہے دل کو ایسا کہ اب دم میں دم نہیں اُس شام کو کہ شادی میں اک دن تھا درمیاں سر پر تھا اُس کے ٹوکرا جھولی میں روٹیاں بھولی ہوئی تھی دُنیا کا سب سود اور زیاں تھی دل میں خوش کہ کل کو ملے گا مجھے۔میاں گھر کی طرف قدم کو بڑھائے وہ جاتی تھی بد قسمتی بھی آگے سے ملنے کو آتی تھی تنہا وہ گھر کو جاتی تھی بے خوف و بے خطر سکھوں کے کوچہ میں سے لگی کرنے جب گزر دو مرد آ کھڑے ہوئے رستے کو روک کر گھبرا کے منہ کو دونوں کے دیکھا جو غور کر چہرے یہ اُڑنے لگ گئیں ڈر سے ہوائیاں سر پر سے ٹوکرا گرا، جھولی سے روٹیاں دہشت کے مارے دونوں کے وہ پینے کوتھی پیڑے اور اس کے بھائی نے فرصت مگر نہ دی دھکے سے اُن کے دھم سے زمیں پر وہ آپڑی چھاتی پہ پھر وہ چڑھ گیا اور اُس کا بھائی بھی۔ظلم اُس کے ساتھ کیا اُس پلید نے وہ جتنا کیا نہ تھا کبھی شمر و یزید نے دانوں سے اُس کی ناک پکڑ کر جھنجھوڑ دی دائیں طرف کبھی، کبھی بائیں مروڑ دی آخر بزور کھینچ کے وہ جڑ سے توڑ دی کیا کائی اُس کی ناک کہ قسمت ہی پھوڑ دی