بُخارِ دل

by Other Authors

Page 291 of 305

بُخارِ دل — Page 291

291 افسوس پر کہ ہاتھ لگا کچھ نہ سیم و زر الٹا سپاہیوں نے لیا مجھ کو واں پہ دھر چھ ماہ تک میں بند رہا قید خانے میں اس واسطے مجھے ہوئی یاں دیر آنے میں ایک رتی بھر بھی جھوٹ نہیں اس فسانے میں پر تجھ سا بیوفا بھی نہ ہو گا زمانے میں جو عہد تو نے مجھ سے کیسے تھے گئی وہ بھول اک اور مرد پیچھے میرے کر لیا قبول پیڑے میاں کائن کے یہ افسوس اور ملال کہنے لگی غرور سے اپنے پھلا کے گال چل دُور ہو زبان کو اپنی ذرا سنبھال ایسے لگے ہیں کون سے تجھ کلمو ہے میں لال چور اور قیدیوں سے سے مجھے واسطہ نہیں ایسوں کی دوستی میں کوئی فائدہ نہیں سن کر یہ بات گر چہ وہاں سے گیا وہ ٹل جاتے ہوئے یہ کہہ گیا رہی ڈرا سنبھل دو چار دن میں سارا نکل جائے گا یہ بل تو بھی رکھے گی یاد کہ تھا کوئی پیرا مل کر دوں تجھے میں ایسا کہ سب شادی جائے پھول دیور تو کیا ہے، گتے نہ ہر گز کریں قبول“ پیڑا تو کہہ کے یہ کسی جانب کو چل دیا اور انتقام لینے کی تدبیر میں لگا اور یاں بیاہ شادی کا چرچا تھا جا بجا یاں تک کہ صرف ایک ہی دن باقی رہ گیا اور انتظار تھا کہ سر شام کل کی رات آئے گی گھر نہاتی کے اک دُھوم کی برات