بُخارِ دل

by Other Authors

Page 293 of 305

بُخارِ دل — Page 293

293 پھر یہ غضب کیا کہ اسے وہ چبا گیا کیا جانے کیا مزا تھا کہ کچی ہی کھا گیا وو کالے تھا ناک اور وہ کہتا تھا اس سے یوں لے جتنے چاہے اُتنے کم اب میں تجھ کو دُوں تو نے میری اُمید کا جیسے کیا تھا نوں ویسے ہی عمر بھر نہ کراؤں جو غاؤں غوں؟ تو جانیو کہ باپ کا اپنے نہیں میں پوت کو ماریو اُٹھا کے میرے سر پہ اپنے جوت یہ کہہ کے وہ اور اس کا برادر چلے گئے پر عمر بھر کے واسطے اک تحفہ دے گئے نتھنوں سے اُس کے خون کے نالے بہے گئے لوگوں کو جب خبر ہوئی تب گھر کو لے گئے بیهوش ساری رات وہاں وہ پڑی رہی جب دن چڑھا تو ساری حقیقت بیان کی افسوس رنج و غم کی کوئی انتہا نہیں ہمدرد ہائے کوئی بھی اپنا رہا نہیں منہ کو چھپائے ایسی کوئی ملتی جا نہیں اب چارہ سوزِ دل کا سوائے فنا نہیں محروم ایسی عمر میں ہو جائے ناک سے ہے ہے، ملے جوانی بیچاری کی خاک سے نوٹ: اس نئے جرم کی سزا میں پیڑے کو دو سال قید با مشقت کی سزا ہوئی جب وہ قید سے واپس آیا تو فقیر بن گیا۔پہلے تو عشق مجازی کے زور میں نہائی کا نام جپتا پھرا۔پھر عشق حقیقی کا مدعی بن بیٹھا۔چند سال کے بعد اُس نے ایک باغیچہ اور تکیہ بنا کر اُس میں درویشانہ زندگی بسر کرنی شروع کی۔اور حلال خوروں کا پیر بن