بُخارِ دل — Page 286
286 اب کیا بتاؤں حالِ دلِ ناتوان و زار ہے جی میں یہ کہ کر دوں حقیقت کو آشکار وہ واقعہ کہ جس کے سبب جاں ہے بیقرار وہ سانحہ کہ سُن کے جسے سب ہیں سو گوار تفصیل اس کی ساری میں زیب رقم کروں جو کچھ ہوا ہے لکھ دوں نہ کچھ بیش و کم کروں تھی ایک مہترانی، نہالی تھا جس کا نام ٹٹی کا صاف کرنا ہمیشہ تھا اُس کا کام نازک تھی اتنی عطر سے ہوتا اُسے زُکام پر اپنے کام میں وہ لگی رہتی صبح و شام عورت تو تھی یہ ہمت مردانہ اُس میں تھی ظاہر میں کوئی حرکت بیجا نہ اُس میں تھی آرام ظاہری کسی صورت کا کم نہ تھا فکر معاش و پوشش و خور کا آئم نہ تھا کچھ فقر و مفلسی کا اسے رنج وغم نہ تھا اندیشہ نوشتہ لوح و قلم نہ تھا معلوم کیا تھا یہ کہ زمانہ ستائے گا یوں بیٹھے بیٹھے خون کے آنسو رُلائے گا مہتر تھی اک زمانہ میں سب مہتروں پر وہ عزت سے اس کے پاؤں کو رکھتے سروں پر وہ کرتی تھی چودھراہٹیں ان کے گھروں پر وہ پانی کبھی بھی پڑنے نہ دیتی پروں پر وہ پر حیف آج خود ہی مصائب میں غرق ہے سیلاب آفتوں کا ز پا تا پفرق ہے تھا ر شک پوستان ازم پہلے اُس کا گھر شوہر کا اپنے سر پہ وہ رکھتی تھی تاج سر گر ساس تھی تو ماں سے بھی کچھ مہربان تر شہر نے دی تھی دل سے بھلا شفقت پدر