بُخارِ دل

by Other Authors

Page 285 of 305

بُخارِ دل — Page 285

285 المناک حادثہ مندرجہ ذیل سچا واقعہ میرے بچپن کے زمانہ کا ہے۔ایک مہترانی جس کا نام نہائی تھا اور جو جوانی میں بیوہ ہوگئی تھی۔ہمارے ہاں قادیان میں کمایا کرتی تھی۔ایک دن ایک حلال خور نے جس کا نام پیڑا تھا عین دن کے وقت برسرراہ اُسے پکڑا اور زمین پر گرا کر اُس کی ناک دانتوں سے چبا ڈالی یہ المناک حادثہ 15 ستمبر 1903ء کو واقع ہوا تھا۔مجھے اپنی مہترانی کی اس بدحالی کا بڑا رنج ہوا۔اور میں نے سارے واقعہ کی ٹوہ لگانے کی بڑی کوشش کی اور جو واقعات معلوم ہوئے ان کو ایک مرثیہ کے طور پر نظم میں لکھا، اس نظم کا قادیان کے بیچوں میں بڑا چرچا ہوا۔اور بچے قادیان کی گلیوں میں ان اشعار کو گاتے پھرے۔مرثیہ ذیل میں لکھا جاتا ہے:۔رنج و الم کا حیف میں کیا ماجرا لکھوں در دینہاں کو کیونکر میں اب بر ملا لکھوں سینہ قلم کا شق ہے یہ کہتی ہے کیا لکھوں اشک سیہ بہاؤں کے یہ سانحہ لکھوں ہوش و حواس پراگندہ سب کے ہیں آثار منہ پہ لوگوں کے رنج و تعب کے ہیں کیسی یہ نا گہانی مصیبت پڑی ہے ہائے کیونکر یہ جھیلی جائے کہ آفت کڑی ہے ہائے منحوس کیسی در دو الم کی گھڑی ہے ہائے ہر سمت اشک غم کی لگی اک جھڑی ہے ہائے آہ و فغاں کا چار طرف ایک شور ہے جوش وفور گریہ سے ہر چشم کور ہے