بُخارِ دل — Page 287
287 افلاس کی ہوا بھی کہیں سو نہ تھی چار اتنی گشادگی کہ کچھ آرزو نہ تھی کٹتی تھی زندگی اسی عیش و بہار سے سب بے خبر تھے ایک زمانے کے وار سے منہ موڑ اپنا ہستی ناپائیدار سے ساس اور سسرا چل دئے اس روز گار سے سر تاج جو کہ تھا سو وہ سر سے گزر گیا دائح فراق و صدمه غم دل پہ دھر گیا اوپر تلے کی موت سے بدحال ہو گئی آفت پڑی کہ بے پر و بے بال ہو گئی ظلم وستم سے دہر کے پامال ہو گئی اپنی ہی زندگی اُسے بنجال ہو گئی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو نہیں رہا سر کو گھوٹا اتنا کہ اک مو نہیں رہا آخر کو روتے روتے ذرا دل سنبھل گیا دُنیائے دُوں کے شغل میں کچھ کچھ بہل گیا سر پر جو تھا پہاڑ آئم کا سوٹن گیا دُور فغاں کی راہ سے سب غم نکل گیا پھر صبر آ گیا دل آشفتہ حال میں رنج و الم چلے گئے خواب و خیال میں بچوں کے ساتھ اپنے وہ رہتی اکیلی تھی ہمدرد و دوست کوئی، نہ کوئی سہیلی تھی آرام و عیش اُس کے لئے اک پہیلی تھی بخت رسا کے نقش سے خالی ہتھیلی تھی یہ گمپرس حال نہ آیا اُسے پسند بام نشاط پر لگی وہ ڈالنے کمند