بُخارِ دل — Page 26
26 مدینہ نیا بنا لاہور ہجرتِ ثانیہ کی خاطر ނ مرکز قادیاں ہوا مَفْقُور ہجرت اولیں ہوئی مردود مقبرہ اک ضرار بنتا ہے دفن ہوں گے جہاں یہ سب موؤد پیڑ کیسی قسمت ہوئی نا مسعود ہے گئے پتھر ان کی عقلوں پر ہوئے آزاد ساری قیدوں سے مٹ گئیں دین کی تمام حدود اللہ اللہ کر لیا بس ہے محض توحید حق سے ہے مقصود انبیاء سراسر ہیں برابر یہاں پہ ہود و خمود دائره لا إِلهَ إِلَّا الله جس میں داخل ہیں مسلم اور یہود ہے جہنم بڑا نفیس مقام عارضی چونکہ ہے وہاں کا ورود کیا ہوا۔گر رہیں وہاں احقاب دائی تو وہاں نہیں ہو مبارک تمہیں تمنا ہے خلود و مبارک تمہیں درود و خلود تو ہی بندوں کا ہے غفور و ودود الہی ہمیں بیچا اس سے یا حشر ہو ساتھ تیرے احمد کے صد سلام اس پر اور ہزار ورود رحمتیں اہل و آل پر اُس کی خاص کر جو کہ ہے پسر موعود آشنا بس قلم کو رکھ دے تو وقت ہے تنگ قافیے معدود مطبوعہ اخبار الحق دہلی مورخہ 22 مئی 1914 ء صفحہ 3)