بُخارِ دل — Page 268
268 (153) خدا کا شکر ناممکن ہے رواں رواں جو کھڑا ہو کے مرا احمد کرے تو شکر تیرا نہ پھر بھی ادا ہواے جاناں! جو ایک پل کے بھی انعام گن نہ سکتا ہو وہ عمر بھر کے بھلا گن سکے کہاں احساں؟ (154) توحید اسلامی بے عیب حسین و بے نہایت محسن کوئی نہ ہوا، نہ ہے، نہ ہو گا تجھ بن کہتے ہیں اسی کو اہلِ دانش توحید عاشق ہے ترا اسی لئے ہر مومن (155) کبائر گر کبائر سے رہے گا تو بیچا پھر صغائر سے بچا لے گا خدا یاد کر لے نام اُن کے اے عزیز! شرک و سرقه - قتل و بهتان و زنا (156) عصمت ہر عمل میرا ہے دھوکا اور فریب خلق سے، خالق سے، اپنے آپ سے ما سوا نبیوں کے بیچ سکتا ہے کون؟ معصیت سے بُجرم سے اور پاپ (157) غیر مبائعیین کا آغاز اورانجام جب ہو گیا ظہور لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمُ پیغامیوں نے کر دیا رستے کو اپنے گم نکلے جو قادیاں سے پراگندہ ہو گئے الہام ٹھیک نکلا لَيُمَزَ قَنَّهُمْ 1 یہ الہام در اصل لَيُمَزَّ فَنَّهُمُ ہے مگر شعر کی روانی اور وزن کی خاطر ا سے لَيُمَةِ قَنَّهُمُ پڑھا جائے۔(محمد اسمعیل)