بُخارِ دل — Page 267
267 (147) گردش ایام جان و دل اُن پر فدا کرتے تھے ہم اپنے حق میں خود بھلا کرتے تھے ہم اب تو اُن کے دل سے ہیں اترے ہوئے جن کی آنکھوں میں پھر ا کرتے تھے ہم (148) دُنیا کے کام کبھی ختم نہیں ہوتے کام دُنیا کے تو چلتے جائیں گے چار دن پہلے کرے تو کیا ہوا آج گو دس کام ہیں باقی تیرے بعد دس دن کے وہ ہوں گے پندرہ (149) جنت و دوزخ مر کرسب کچھ ظاہر ہو، حالت اچھی یا زبون جنت ہے یا دوزخ كلَّا سَوفَ تَعْلَمُون بندے اچھے جنت میں فِيهَا عَيْنٌ جَارِيَہ گندے مندے دوزخ میں، تُصلى نَارًا حَامِيَه (150) احمدیوں کا عزم گر ہے تو خوش ہیں یار نہیں ہے تو غم نہیں احمد کے ہم غلام ہیں شاہوں سے کم نہیں دُنیا کے فتح کرنے کے دم غم دلوں میں ہیں گو دیکھنے کو ہاتھ میں دام و درم نہیں (151) بڑھاپا اور موت موم شمع تن کا میرا سب پکھل کر بہہ گیا جان بتی سے بندھی ، اب منتظر ہے حکم کی جب ندا آئے گی عزرائیل کی بھڑ کے گی کو جسم سے ہو کر الگ برزخ میں جائے گی چلی (152) امتحان نہ رہا عشق میں تیرے جاناں حال اپنا بیان کے قابل مجھ سے عاجز کا امتحاں ہے کیوں؟ میں نہیں امتحان کے قابل