بُخارِ دل

by Other Authors

Page 255 of 305

بُخارِ دل — Page 255

255 (88) بانی ظلم وستم جو ہیں بڑئے ڈوبیں گے اپنے ہم جنسوں کو ہمراہ لیے ڈوبیں گے بولا اک روز امان اللہ مسولینی سے ہم تو ڈوبے تھے صنم تم کبھی لےڈو میں گیلے ، (89) انگریز تو واقف بھی ہیں اور قوم نہیں سخت جرمن ہیں مگر سخت وہ کر دیں گے ہمیں پست بالکل ہے غلط آپ کا کہنا یہ میرے دوست مارا چه ازیں قصہ کہ گاؤ آمد و خر رفت (90) یہ کل کی بات ہے پیسے میں نان گندم آتی تھی مگر اب ایک پیسے میں یہاں ملتی ہے اک پاتھی ہوئی ہے قدر گوبر کی جو تھی تو قیر آٹے کی کہ جو قیمت تھی روٹی کی وہ اب قیمت ہے اُپلے کی (91) الہام سے عالم کی زندگی وابستہ ہے الہام کا سلسلہ ہے دائم الہام سے جہاں ہیں قائم محروم نہیں ہے کوئی اس سے انساں ہو جمادی یا بہائم کے 1ے چنانچہ امان اللہ خان نے جن کا وطن آج کل اٹلی ہے۔ایسا ہی کر دکھایا۔2 فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوها 3 بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَىٰ لَهَا 4 وَ أَوْ حَىٰ رَبَّكَ الى النحل