بُخارِ دل

by Other Authors

Page 254 of 305

بُخارِ دل — Page 254

254 (82) بہت تنگی ہوئی ہے میرے مولی نہ چیزیں ہیں نہ نوکر ہیں نہ پیسا کرم کر اور سہولت دے الہی روپے دے کارکن دے اور اشیا (83) یا الہی! رحم فرما کیا کریں! ہائے ایندھن“ چیختے کب تک رہیں ٹھیکری کوئلوں پر مُبر اور مُہر میں گئیں لکڑیاں عنقا ہیں پیسہ (84) نوٹ لے لو اک روپے کا، دو کا، دس کا، پانچ کا ریز گاری کا مگر بالکل نہیں ملتا پتا تاجروں کو نوٹ دکھلاؤ تو وہ کہتے ہیں یوں یا تو پیسے لائیے یا کھائیے ٹھنڈی ہوا (85) جن کے گھر بجلی نہیں ہے اُن کی ہے حالت عجیب رات ساری کاٹتے ہیں وہ اندھیرے میں غریب تیل مٹی کا نہیں ملتا یہاں چھ ماہ سے سانپ نکلے، چور آئے، کیا کریں وہ بدنصیب (86) ہوا اسباب سب زیر و زبر ہے نہ بیوی کی، نہ بچوں کی خبر ہے چلے ہیں ریل کے باہر لٹکتے سفر کیا ہے کہ سچ سچ کا سکڑ ہے“ (87) ہوا ہے جنگ کا اتنا اثر اب نوجوانوں پر کہ مسجد میں بھی پانچوں وقت رہتا ہے یہی چرچا مساجد یہ خدا کی ہیں کہ قہوہ خانے لندن کے خدا کے ذکر سے زیادہ ہے ان میں ذکر ہٹلر کا