بُخارِ دل — Page 256
256 (92) ابتلاء کا فائدہ جوہر خاک نہیں گھلتے کبھی اے خا کی سُرمہ ساں اس کو نہ کر دے کوئی دہقاں جب تک کس طرح ہوں گے عیاں تیرے بھی مخفی بو ہر ابتلا مجھ کوکر یں گے نہ پریشاں جب تک (93) شریعت لعنت نہیں بلکہ رحمت ہے اور ہمارے لئے سودمند جو اوامر ہیں شریعت کے وہ ہیں سارے مفید جتنی باتیں ہیں نواہی کی وہ ہیں ساری پلید تیرے ہی سکھ کیلئے ہے دین ورنہ اے عزیز ہے ترے عملوں سے مستغنی خداوند حمید (94) اللہ اور پرمیشر جو پرمیشر ہے وہ نیکی بدی کا بدلہ دیتا ہے تناسخ کے لئے اک پاپ لیکن رکھ ہی لیتا ہے میرا اللہ سارا اجر دے کر پھر بھی اک نیکی چھپا رکھتا ہے اور بدلہ میں جنت دے ہی دیتا ہے (95) أنا الموجود خدا وہ ہے جو خود اپنا پتا دے کلام اور پیشگوئی اور نشاں سے نہ وہ ہے قعرِ گمنامی سے جس کو ہماری عقل ہی باہر نکالے (96) دل شکنی رستی جو ٹوٹ جائے تو ممکن ہے جوڑنا البتہ اس میں دیکھو گے تم اک عیاں گرہ ایسے ہی اک غریب کا جب توڑ دو گے دل گر جڑ بھی جائے گا، تو رہے گی نہاں گرہ