بُخارِ دل — Page 23
23 ·(2)۔دردِ دل کی موت نے بھی کی مسیحائی نہیں جاں لبوں تک آ گئی لیکن قضا آئی نہیں شکوه بیدادِ جاناں کیا کریں جب ہم میں خود بار الفت کے اٹھانے کی توانائی نہیں چھیڑیئے مسجد میں جا کر حُرمتِ کے کا بیاں محفلِ رنداں میں زاہد ، تیری شنوائی نہیں تلخ کامی زندگی کی دیکھنا اے ہم نفسن ہم مریں جس پر اسے ہم سے شناسائی نہیں چھوڑ میخانہ، چلیں کیونکر حرم کو ہم، کہ واں ئے نہیں، ساقی نہیں اور بادہ پیمائی نہیں آ کے تربت پر مری کہنے لگا وہ شوخ یوں باز آیا اب تو مرنے سے؟ صدا آئی ”نہیں“ دیکھتا کیا ہے درخت عشق کہ ہیں یہ حمز دشت غربت میں بنوں کی آبلہ پائی نہیں باغ عالم میں حسیں دیکھے مگر تیری قسم تیری رنگت، تیرا جلوہ، تیری رعنائی نہیں (1) یعنی قادیان (2) یعنی محبت کرنا