بُخارِ دل — Page 22
22 چشم بینا حسن فانی کی تماشائی نہیں ·(1)۔۔دل لگاویں جو صنم سے ہم وہ شیدائی نہیں پشم بینا حسن فانی کی تماشائی نہیں! اک قدح پی کر نہ جس کا تا ابد رہوے خُمار اہلِ دل اس جامِ صہبا کے تمنائی نہیں! مرغ دل! بیچ کر تو رکھیو دام اُلفت سے قدم زُلف کے پھندے میں پھنسنا کارِ دانائی نہیں اس جہاں میں دوستوں سے کیا رکھے کوئی اُمید زیر گردوں پوچھتا بھائی کو یاں بھائی نہیں اپنی نظروں میں اگر کچھ مرد میداں ہیں تو وہ سچ کے کہہ دینے میں جن کو خوف رسوائی نہیں ! جوش ہے طاعت کا دل میں اور عبادت کیلئے وائے قسمت! پر میز گنج تھائی نہیں؟ اُشنا کچھ عشق کا دھندا خدارا چھیڑیئے صوفیانہ یہ ادا تیری ہمیں بھائی نہیں!