بُخارِ دل — Page 233
233 نیز جب تک ہے حیات مستعار اک جماعت خیر خواہوں کی ملے اے خدا، اے چارہ آزار ما عرض ہے مجھ سے، اگر تو مان لے عمر پہلی کی، نہ کریو باز پرس عمر باقی، تیری طاعت میں کئے یاد ہے تجھ کو مرا قصہ ! میری حالت زار ؟ حضرت میر صاحب کی ذیل کی یہ غیر مطبوعہ نظم اُن کے فرزند سید محمد امین صاحب نے فروری 1960ء کے خالدر بوہ میں چھپوائی تھی۔حضرت سیدہ مریم صدیقہ بنت حضرت میر صاحب حرم محترم حضرت خلیفہ اسیح ثانی نے اسے خالد کے پرانے فائلوں میں سے تلاش کر کے اس مجموعہ میں شامل کرنے کے لئے مجھے ربوہ سے بھجوائی جس کے لئے میں محترمہ کا نہایت ممنون ہوں۔(محمد اسماعیل پانی پتی) ساقیا! کس لئے رونق نہیں کے خانے میں کیا ابھی دیر ہے کے خواروں کے یاں آنے میں مہربانی سے میرے واسطے شیشہ وہ لا یعنی جو تیز ہو سب سے تیرے مے خانے میں اک خبر آج خوشی کی میں سناتا ہوں تجھے ڈال اس بادہ رنگین کو پیمانے میں یاد ہے تجھ کو میرا قصہ! میری حالتِ زار کچھ کسر باقی تھی بتلا میرے مر جانے میں