بُخارِ دل

by Other Authors

Page 234 of 305

بُخارِ دل — Page 234

234 کون سے دُکھ تھے وہ فرقت کے جو ہم نے نہ سہے کچھ تمیز اپنے میں باقی تھی نہ بیگانے میں عقل تھی اپنی کہاں، فہم کہاں، ہوش کہاں فرق تھا مجھ میں کہاں اور کسی دیوانے میں رنگ پر رنگ پیغام صلح میں ایک نظم چھپی تھی۔مندرجہ ذیل نظم اُس کے جواب میں الفضل 18 / مارچ 1943 ء میں شائع ہوئی۔ظاہر ہوا ہے آپ کا لاہور یا نہ رنگ کھیلا ہے خوب آپ نے یہ ہولیا نہ رنگ ناموں پر تم نہ جانا کہ دعوے تو هیچ ہیں صادق بھی بعض رکھتے ہیں کچھ کا زبانہ رنگ بے وزن تین شعر ہیں اس نظم میں جناب اچھا ہے میرے دوست تر اما عرانہ رنگ انیسواں، اٹھارواں اور آخری ہیں شعر واضح ہے جن میں آپ کا یہ قاتلانہ رنگ اللہ رے تیری شیخیاں اور کن ترانیاں پیری ہے اور پیری میں یہ مومنانہ رنگ چھ ماہ پہلے گالیاں، اب یوں خوشامد میں رنگت ہے یہ پولیس کی؟ یا تا ئبانہ رنگ ”صالح تو ہے درست مگر تھے پر غور کر کیوں ماضانہ رنگ بنا حالیانہ رنگ؟ منشی کو منشی گر کہا، کیا حرج ہو گیا ! جب معرفت کا اُس نے دکھایا ذرا نہ رنگ 1 ان ایام میں ہولی کا تہوار منایا جا رہا تھا جس میں ہندو ایک دوسرے پر رنگ پھینکتے ہیں۔