بُخارِ دل — Page 232
232 و کل کے بچے کو آج دنیا نے مظہر الحق الغلا دیکھا اہل سائنس کا وہ سویر مین بھی سوچا، سوچا، تو مصطفی دیکھا ساری دنیا میں سب سے بے مصرف ہم نے تجھ کو، اے آشنا دیکھا إِنَّمَا أَشْكُوا بَنِي وَ حُزْنِي إِلَى الله دو مرے بازو تھے، دونو کٹ گئے ایک اُن میں بھائی میر اسحق تھے دوسرے تھے حضرت مرزا شفیع خسر ہو کر، کارکن تھے بن گئے چھوڑ کر اس عالم فانی کو، آہ! سال کے اندر ہی دونوں چل بسے ہو گیا بے دست و پا اُن کے بغیر کون میرے کام، اے مولا! کرے کوئی اُن جیسا نظر آتا نہیں ناز برداری جو میری کر سکے وہ تعاؤن اور وہ خدمت اب کہاں چل دیے جب سے یہ دو محسن میرے زندگانی کا مزا اُس کی ہے کیا؟ جس کے مخلص ہی نہ ہوں باقی رہے تھے وصی میرے وہ دونوں ایک حیف! میں تو جیتا رہ گیا، وہ مر گئے ہوں مدارج اُن بزرگوں کے بلند حق تعالیٰ مغفرت اُن کی کرے وہ تو آ سکتے نہیں دُنیا میں پھر اب تو مجھ کو ہی خدا واں لے چلے 1 ٹرسٹی