بُخارِ دل

by Other Authors

Page 21 of 305

بُخارِ دل — Page 21

21 آئے گی مرے بعد تمہیں میری وفا یاد جس دن سے کیا دل نے میرے قول ملی یاد رہتا ہے مجھے دید بُتاں میں بھی خدا یاد جب تک رہے دوراں میں تیرا جور و جفا یاد تب تک رہے دُنیا میں مری مہر و وفا یاد کچھ شکوۂ بیداد مجھے تم سے نہیں ہے جو تم نے کیا مجھ سے۔نہیں مجھ کو ذرا یاد۔پھر پھڑ کے ہے کیوں ماہی بے آب کی مانند رکھتا نہیں گر دل میں تری قبلہ نما یاد اب گرچہ میرے دعوی اُلفت کو نہ مانو آئے گی میرے بعد تمہیں میری وفا یاد گو ہجر نے ہر نقش خوشی دل سے دیا دھو اب تک ہے ترے وصل کا پر مجھ کو مزا یاد کیوں رو کریں بیمار محبت کو اطبا کیا کوچه دلبر کی نہیں خاک شفا یاد؟ اس عالم غفلت میں جو لے بیٹھا غزل کو کیا جانئے آیا ہے مجھے آج یہ کیا یاد (1903)