بُخارِ دل — Page 20
20 یارب کسی معشوق سے عاشق نہ جُدا ہو گشتوں پر اگر آن کے تو اپنے کھڑا ہو اک شور قیامت تیری آمد سے معشوق کا برتاؤ ہو عاشق سے تو کیا ہو؟ بپا ہو گہ لطف ہو، کہ ناز ہو، کہ جور و جفا ہو کیا جانیئے قسمت میں یہ کیا پھیر ہے اپنی ہم جس کیلئے جان دیں وہ ہم سے خفا ہو کیا تاب زباں کی کہ کرے ہجر کا مذکور یا ربّ کسی معشوق سے عاشق نہ جُدا ہو اے ابرو و مژگان صنم ! یہ تو بتاؤ؟ گر تم نہیں جلاد زمانے کے تو کیا ہو؟ گر قہر پہ ہو جائے کمر بستہ وہ جاناں غوغائے ستم شورش محشر سے سوا ہو (*1903)