بُخارِ دل — Page 19
19 جو راہ تجھے پسند ہے اس پر چلا مجھے (غالبا سب سے پہلی نظم) کیا فائدہ علاج کا بعد از فتا مجھے اے کاش! درد دل کی ملے اب دوا مجھے اہلِ جفا کے ظلم سے اتنا ہوا ہوں تنگ دوزخ کا اس جہان پر دھوکا ہوا مجھے عصیاں کی ئے کوپی کے ہوئی کیا نہ بیخودی بھولا ہے کہہ کے یار سے قول ملی مجھے بیزار زندگی سے ہوں آئی نہیں ہے اس اس تیرہ خاندان کی آب و ہوا مجھے لے چل صبا! تو دوست کے در پر کہ کر دیا اس آسیائے چرخ نے اب سرمہ سا مجھے اونچا ہو نہ فلک سے بھی پایہ وقار کا سمجھے دم خرام جو وہ خاک پا مجھے وہ کون؟ یعنی احمد مختار کا حبیب آتا ہے نام لینے میں جس کے مزا مجھے پابوسی ہو نصیب تو اکسیر میں بنوں پڑ جائے گر نظر تو کرے کیمیا مجھے چمک، وہ رخ نور بار کی مُصحف میں آ رہی ہے نظر و الضحی مجھے اے رحمت خدا! تو میری دستگیر ہو حرص و ہوا کے جال سے آکر چُھڑا مجھے یا رب ! تو اپنے فضل سے بیڑے کو پار کر کافی ہے میری کشتی کا تو ناخدا مجھے لطف و کرم سے بخش دے میرے گناہ تو شیطان کی گرفت سے کر دے رہا مجھے ہے تجھ سے آشنا کی الہی دُعا یہی الله جو رہ تجھے پسند ہے اُس ہے اُس پر چلا مجھے آمین (*1903) (1) یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام