بُخارِ دل — Page 180
180 کچھ دُعا کے متعلق دُعا ئیں چھ (6) طرح قبول ہوتی ہیں اور اس طرح کوئی دُعا بھی ضائع نہیں جاتی (1) یا تو وہ لفظاً یہیں قبول ہو جاتی ہے (2) یا اُس کی جگہ آخرت کا درجہ اور نعمت مل جاتی ہے (3) یا اتنی ہی مقدار میں کوئی بُری تقدیر دور ہو جاتی ہے (4) یا بطور عبادت محسوب ہو جاتی ہے (5) یا دُنیا ہی میں ایک کی جگہ دوسری بہتر چیز مل جاتی ہے (6) یا اگر وہ دُعا بندہ کے لئے مضر ہو تو منسوخ کر دی جاتی ہے۔یہ نامنظوری بھی اجابت اور رحمت کا رنگ رکھتی ہے یعنی بندہ ضرر اور تکلیف سے بچ جاتا ہے۔ہمارا فرض ہے کرنا دُعا کا پھر آگے چاہے وہ مانے نہ مانے اگر مانے، گرم اُس کا ہے ورنہ وہ جانے اور اُس کا کام جانے خدا ہے غیب داں اور جانتا ہے کہ کیا ہیں نعمتیں کیا تازیانے مگر انسان که دارد علیم ناقص نمی دائد مفادش از زیانی اگر ہر اک دُعا لفظاً ہو مقبول لگیں پھر مدعی تو دندنانے ملے داعی کو گنجی خیر و شر کی خدائی سونپ دی گویا خدا نے بنے جت یہی دنیائے فانی لگیں دشمن، مخالف سب ٹھکانے جو احمق ہے سمجھتا ہے کہ واہ وا لگیں گے اب تو ہم موجیں اُڑانے