بُخارِ دل — Page 179
179 کیا سناؤں کھول کر اپنے گناہ تو تو خود علا تو تو خود علام ہے، میرے خدا کس قدر بد بوئے عصیاں تیز ہے تن بدن تمام ہے ، میرے خدا غیر تو ہیں غیر، یاں مجھ سے نظور ہر اُولُو الارحام ہے، میرے خدا عمر آخر ہو گئی سب کفر میں یہ میرا اسلام ہے، میرے خدا جائے حیرت ہے کہ مجھ سا نابکار داخلِ خدام ہے، میرے خدا اب رہا غمخوار اس عاصی کا کون کون آتا کام ہے، میرے خدا تو ہی بتلا کیا کروں، میرے غفور تیرا ہادی نام ہے، میرے خدا قطع زنجیر معاصی کے لئے کون سی صمصام ہے، میرے خدا قعر ذلت میں پڑا ہوں منہ کے کیل آہ! کیا انجام ہے، میرے خدا میں تو چڑھ سکتا نہیں تو خود ہی ھیچ بس کہ اونچا بام ہے، میرے خدا اے خدا! اے بر و رحمان و رحیم رحم تیرا عام ہے، میرے خدا نااُمیدی تجھ سے کیوں ہو؟ جب ترا مغفرت ہی کام ہے، میرے خدا تجھ پہ قرباں، کاش تو کہہ دے مجھے تیرا نیک انجام ہے، میرے خدا ختم میری تو دعائیں ہو چکیں اب تو تیرا کام ہے، میرے خدا آمین (الفضل 9رجون1943ء)