بُخارِ دل

by Other Authors

Page 181 of 305

بُخارِ دل — Page 181

181 وہ ملے گا جو بھی مانگیں گے، دعا سے یہ راہ عیش کھولی ہے قضا نے مگر ہر گز نہ ہو گا کامراں لگے گا جو خدا کو آزمانے دعا ئیں گو سب ہی ہوتی ہیں منظور یہ فرمایا حضور مصطفی نے مگر مل جائے جو مانگا ہے تو نے نہیں ٹھیکا لیا اس کا خدا نے کبھی ملتا ہے دنیا میں جو مانگو کبھی عظمی کے گھلتے ہیں خزانے کبھی کوئی مصیبت دور ہو کر بدل جاتے ہیں تلخی کے زمانے عبادت بن کے رہ جاتی ہیں اکثر خُدا اور اُس کے بندے کو ملانے - مثلاً بجائے زر - پسر بھیجا خدا نے کبھی مقصد بدل جاتا ہے فراخی کی جگہ ملتی ہے عزت خطابوں کی جگہ آتے ہیں دانے مکاں بنتا نہیں۔پر عُمر بڑھ کر بھرے جاتے ہیں عملوں کے خزانے مگر نقصان دہ جو ہوں دعا ئیں گرم اُس کا ہے گر اُن کو نہ مانے نہیں محروم اُس درگاہ سے کوئی کہ بخشش کے ہزاروں ہیں بہانے غرض یہ ہیں اجابت کے طریقے قبولیت کے ہیں سب کارخانے نہیں آساں مگر کرنا دعا کا چنے لوہے کے پڑتے ہیں چہانے دعا کرنا ہے خونِ دل کا پینا زبانی لفظ تو ہیں بس بہانے نہ جب تک متقی بن جاؤ پورے قبولیت کے ہیں دعوے، فسانے عبادت، بلکہ ہے مغز عبادت دعا کی گر حقیقت کوئی جانے