بُخارِ دل — Page 178
178 بد تمیز و بدترین و بدعناں سیرت انعام ہے، میرے خدا بد خصال و بدلیاقت بد کلام موجب آلام ہے، میرے خدا بد عمل، بد نیت، و بد اعتقاد قابل الزام ہے، میرے خدا بدتر و بدخواه و بداند لیش ہے کیسا بد انجام ہے، میرے خدا بدمزه، بد رنگ، بد رو، بدمذاق کس قدر بدنام ہے، میرے خدا بدحواس و و بدشگون و بد شعار کیا ہی بے ہنگام ہے، میرے خدا بدطبیعت بدسگال و بدنما بدراه، بدکردار بددیانت، بدگماں مفید و تمام ہے، میرے خدا ہے عبد نافرجام ہے ، میرے خدا بد گن و بدحال و بد پرہیز ہے عقل اُس کی خام ہے، میرے خدا بد خبر بدعهد بدگو، بد زباں تیغ خوں آشام ہے ، میرے خدا بد شمائل بدیشیم مجمع الآثام ہے، میرے خدا بددل و بدزیب، و بداطوار ہے جاہل و ظلام ہے، میرے خدا ،بدروش ،بد شوق، بدظن بدلحاظ یعنی کا الانعام ہے، میرے خدا ظاہر و باطن بدی ہی اُس کا شغل صبح سے تا شام ہے، میرے خدا گرچہ کہتا ہے مسلماں آپ کو پر برائے نام ہے، میرے خدا العجب پھر بھی وہ ظالم مانگتا ہر گھڑی انعام ہے، میرے خدا دعا آہ! وہ بندہ ہوں میں خود اے کریم جس کا یہ اعلام ہے میرے خدا کرم کہ بُو دَم مرا کر دی بشر پھر بھی یہ اقدام ہے، میرے خدا