بُخارِ دل — Page 170
170 ہم نے دل کو جب بھرا نور کلام پاک سے بھر گیا، بھر کر پھٹا، پھٹ کر سپارہ ہو گیا شاذ و نادرخواب میں آتے تھے عزرائیل یاں اب تو معمولی اُن کا روزانہ نظارہ ہو گیا کاش اپنی موت ہی ہو جاذب غفرانِ یار کہتے ہیں مُردے کو سب حق کا پیارا ہو گیا ایک پل بھی اب گزر سکتا نہیں تیرے بغیر اب تلک تو ہو سکا جیسے گزارا ہو گیا بعد مُردن قبر کے کتبے پہ یہ لکھنا مرے آج ہم دلبر کے اور دلبر ہمارا ہو گیا“ (یا اللہ ایسا ہی کر ) (الفضل 8 مئی 1943ء) 1 مطلب یہ ہے کہ اب اپنی موت کے خواب کثرت سے آتے ہیں۔