بُخارِ دل

by Other Authors

Page 169 of 305

بُخارِ دل — Page 169

169 كتبه تربت بہشتی مقبرہ میں جا کر جھوم جذبات جو ہمارا تھا وہ اب دلبر کا سارا ہو گیا“ جان و دل اور مال و زر سب کچھ تمہارا ہو گیا شكر الله مل گئی ہم کو جہنم سے نجات قبر کی کھڑکی سے جنت کا نظارہ ہو گیا فکر بس اتنی ہی تھی ، دل کو، نہ ہوں مہجور ہم تیرے صدقے جانِ من، اس کا تو چارہ ہو گیا کوئے جاناں نھیں رہیں گے اب مزے سے تا بہ حشر پار پھر بیڑا ہے جب تیرا اشارہ ہو گیا جو جوانی میں دبا رکھی تھی آرتش عشق کی وقت پیری وہ بھڑک کر اک شرارا ہو گیا ایک طوفانِ محبت تھا کہ جس کے زور میں راز میرا دوستو! سب آشکارا ہو گیا یوں نظر آتی ہے اب اپنی گزشتہ زندگی 1 یعنی بہشتی مقبرہ و جس طرح پانی کنوئیں کی تہ میں تارا ہو گیا“