بُخارِ دل

by Other Authors

Page 171 of 305

بُخارِ دل — Page 171

171 آسند و زندگی موت تو ہے نام بس نقل مکانِ رُوح کا قبر مٹی کی نہیں ، اک اور ہی ہے مُسْتَقرُ پل صراط حشر ہے یاں کی صراط مستقیم تاکہ ہو معلوم - راہ چلتا رہا کیسی بشر؟ جلوہ گاہِ لطف و احساں نام ہے فردوس کا اور تحلی گاہ اوصاف جلالی ہے سفر۔میں تنکن سب پہ تیرے اپنے ہی افعال کے کر عمل اچھے، کہ تا مارا نہ جائے بے خبر جو کمی ہو، وہ دُعا سے پوری کرتا رہ مُدام اے خدا جنت عطا کر، اور سفر سے الحذر (الفضل ورمئی 1943ء)