بُخارِ دل

by Other Authors

Page 146 of 305

بُخارِ دل — Page 146

146 خر شروئی بھی اک تگیز ہے مسکرانا بھی اک سخاوت ہے حد سے زیادہ جو ہووے سنجیدہ تو بیماری پیوست ہے جو کہے کچھ۔مگر کرے کچھ اور یہ شقاوت کی اک علامت ہے بات سادہ ہو یہ فصاحت ہے دل میں گھس جائے یہ بلاغت ہے ہے کر مصیبت میں بھی خدا کا شکر گر تجھے حق سے کچھ محبت پہلے نیت درست کر اپنی کہ مُقدم عمل نیت ہے حق کے مجھ پر ہیں جس قدر انعام پر ہیں جس قدر انعام اُن کا کتنا بھی اک عبادت ہے اپنے ہر دُکھ کو تو سزا نہ سمجھ بعض زخمت ہے بعض رحمت ہے رُوح ہر جا ہے جسم کی محتاج یہ نہ ہو گر تو پھر وہ وہ میرث ہو، حشر ہو، کہ ہو جنت ہر جگہ جسم کی ضرورت ہے جسم کے ساتھ ہیں یہ جملہ حواس ورنہ پھر درد ہے، نہ راحت ہے میری فطرت ہے طالب لذت اس لئے میرا اجر جنت ہے بات سچ ہو مگر ہو دل آزار پیٹھ پیچھے کہو تو غیبت ہے قبر - وہ ہے تو بہتان اور تہمت ہے لوگ کہتے ہیں پر جسے غیبت جو منافق ہو، اُس کی باتوں سے آتی مومن کو اک عَفُونَت ہے ہوں ہزاروں کرامتیں بیشک سب سے مقبول استقامت ہے ہے مساوات مرد و زن دھوکا مرد کو ہر طرح فضیلت ہے کثرت ازدواج ہے لازم ورنہ پھر ووٹروں کی قلت ہے