بُخارِ دل — Page 147
147 کیمیائے سعادت ار واح انبیاء اولیاء کی صحبت ہے ہر جماعت میں ہوتی ہے اک رُوح نام جس کا دلوں کی وحدت ہے جو نہی وحدت گئی، شکست آئی پھر نہ ہے رُعب اور نہ طاقت ہے پڑھ کے قرآن جو نہ روتا ہو اُس کے دل میں بہت قساوت ہے روح کی جان ہے خوشی دل کی جسم کی جان اُس کی صحت ہے پیٹ خالی ہو جس کا، وہ پاتا کشف و الہام کی حلاوت ہے پیشگوئی ہو جس سے اک پوری سب میں کچی وہی روایت ہے صرف لوگوں کے ڈر سے ترک گناہ دہریت کی یہ اک علامت ہے جیسے پیسے روپے کی ہے چوری ویسے ہی آنکھ کی خیانت ہے کار آمد ہیں علم دو ہی فقط ایک مذہب دوم طبابت ہے مهدی وقت و و سیسی دوراں اُس سے وابستہ اب ہدایت ہے چکی تھی خدا شناسی گرم مل گئی پھر، یہ اُس کی برکت ہے ہو جس حکومت کی ہو رعایا تو اُس کی لازم تجھے اطاعت ہے تیرا ورنہ ضائع تیری عبادت ہے اپنی لڑکی نہ غیر کو دیجو گر تجھے کچھ بھی دیں کی غیرت ہے احمدی ہی امام جو ہو جنازہ پڑھے مخالف کا اُس پہ افسوس اور حسرت ہے