بُخارِ دل — Page 145
145 جب مسئلہ ہے یہ اک شریعت کا جملہ اشیاء کی اصل حلث ہے ہو زیاں جس میں فائدے سے سوا اُس پہ فتوی اثم و حُرمت ہے کسی کا بُروز آ جائے جان لو یہ اُسی کی رجعت ہے ہے أَقِيمُو الصلواة کا مطلب که فریضہ یہ باجماعت ہے احمدیت کا اولین اُصول ترک دنیا ہے، دیں کی خدمت ہے جب مقدم ہو دین، دنیا پر پھر تو دنیا ہی بے حلاوت ہے مر گئی روح ایسی اُمت کی جس میں باقی نہیں نبوت ہے ہے جس میں فیضان یہ رہا جاری نام اُس کا ہی خیر امث“ رسم کو توڑ - رسم ہے باطل تیرا لیڈر فقط شریعت ہے رنج اور خوف سے ہوئے آزاد مومنوں کو یہاں بھی بحث بحث ہے ہے ساری قربانیاں ہیں ایماں سے اس میں مخفی عجیب جب ہے کہ ساتھ ہو نیث ورنہ وہ صرف رسم و عادت ہے نیکی دل کی سب حالتوں میں افضل ہے رقت قلب کی جو حالت ہے ایک سے ایک بڑھ کے ہیں اخلاق صدق کو سب پہ اک فر لغو گوئی اگر حماقت ہے خامشی بھی دلیل نخوت ہے