بُخارِ دل

by Other Authors

Page 142 of 305

بُخارِ دل — Page 142

142 خوان پر تیرے دوست اور دشمن کھا رہا ہر ہر طرح کی نعمت ہے كفر و عصیاں کی مجھ میں ہے علت عفو غفران تیری عادت ہے ساری خوشیاں ہیں وصل جاناں میں ورنہ دوزخ ہے اور حسرت ہے ہے ہدایت اُسی کی جانب سے ورنہ چاروں طرف ضلالت ہے گن کہا اور کیا ہوا عالم یہ ارادے کی اُس کی قدرت ہے ہے وجودِ حکیم یوں ثابت کہ نظام جہاں میں حکمت ہے ایسے معبود معبود سے خدا کی پناہ جس کا بیٹا ہے اور عورت ہے جب وہ مصروف عیش وعشرت ہو پھر ہمارے لئے قیامت ہے اُس کو کیونکر کہیں گے پر میشر خلق تک کی نہ جس میں طاقت ہے جان سے مار دیں جسے دشمن کیا خدائی کی یہ علامت ہے ہو جو مختاج روح و مادہ کا یہ بڑائی نہیں بڑائی نہیں ہے ذلت ہے جو نہ ہو اک کمہار بڑھ کر ایسے ایشر کی کیا ضرورت ہے حق تعالیٰ کی دوستی کا نشاں اُس کی تائید اور نفرت ہے ہمکلامی ہو اپنے مالک سے یہ غلامی کی اپنی غائت ہے ہو کے معشوق بات تک نہ کرے یہ تو بالکل خلاف فطرت ہے اُس کی کرسی کا، عرش کا مطلب علم ہے اُس کا اور حکومت ہے