بُخارِ دل — Page 143
143 شرک اسباب ترک کر اے یار! سے مخفی یہی نجاست ہے جس کا کھانا اُسی پہ غرانا کفر سو لعنتوں کی لعنت ہے میں جو ہو جاؤں تجھ سے خود راضی یہ رضا کی تیری علامت ہے میری بدعملیوں میں سب سے بُری میرے محسن! تیری شکایت ہے مجھ کو کیا غذر واپسی میں ہے میری ہر شے تیری امانت ہے ہے زباں ایک۔شکر ہو کیونکر چار سُو یاں نجوم نعمت ہے بے دعا کے ہیں کام سب پھیکے مانگنے میں عجب حلاوت ہے مانگنا جو اپنے رب سے ہے عزت مانگنا آدمی سے ذلت ہے اصل مذہب خدا شناسی ہے نہ کہ اخلاق اور مُرَوَّت ہے نہ تازہ نشان دکھلائے ایسے مذہب کی کیا ضرورت ہے ایسے ایمان کا خدا حافظ جس کی قصوں پر سب عمارت ہے عیش دنیائے دُوں کے چند است عیش عشمی ہی بے کدورت ہے دل رہے گرم عشق مولی رب بڑھ کر یہی ولایت ہے کا منوانا، وحی پہنچانا نام اس بات کا رسالت ہے کثرتِ غیب کثرتِ الهام بس یہی چیز تو نبوت ہے