بُخارِ دل

by Other Authors

Page 141 of 305

بُخارِ دل — Page 141

141 بیا بیا، نگار من، نگہ نگہ، بہارِ من پینه، حصار من، مدد مدد، اے یار من بہشتی مقبرہ، پنائے گن مَزارِ من خدائے من، خدائے من، قبول گن دُعائے من درود مصطفى سلام ہو، صلوة میرزا یہ ہو مقدا ہو، دُعا ہر آشنا ہو جو اپنا کارساز ہے، توکل اُس خدا پہ ہو خدائے من خدائے من، قبول گن دُعائے من آمین (الفضل 12 / مارچ 1943ء) احمدیت مل گئی جس کو احمدیت ہے اُس پہ حق کی کمال رحمت ہے دل میں تیری اگر محبت ہے ساتھ ہی رُعب کی بھی ہیت ہے ذات ہے ایک بے حساب صفات تیری وخدت میں رنگِ کثرت ہے اتنی مخلوق - سب میں تیرا نور یعنی کثرت میں شانِ وخدت ہے ہر طرف ہے تو ہی نظر آتا جلوہ حُسن کی وہ شِدّت ہے (1) پہلے ایڈیشن میں اس نظم کا عنوان تھا ” ہے مگر حضرت میر صاحب نے بعد میں اس عنوان کو بدل کر احمدیت“ رکھا تھا۔