بُخارِ دل

by Other Authors

Page 11 of 305

بُخارِ دل — Page 11

11 نکلنا نہ پڑتا تو اب تک وہیں رہتا۔قادیان آنے کے بعد میں نے پہلا کام یہ کیا کہ اس عرصہ میں جس قدر نئی نظمیں حضرت میر صاحب نے لکھی تھیں سب فراہم کیں اور ان کو بخار دل حصہ دوم کے نام سے 1945 ء میں شائع کر دیا، مگر اس مجموعہ کی اشاعت کے بعد بھی حضرت میر صاحب کچھ نہ کچھ کہتے رہے اور بخار دل کے سادہ اوراق پر لکھتے رہے مگر وہ کلام کہیں شائع نہیں ہوا۔اپنے انتقال (18 جولائی 1947 ء) سے پہلے حضرت میر صاحب نے وصیت کر دی تھی کہ میرے بعد یہ سارا کلام اسماعیل کے سپر د کر دیا جائے، چنانچہ حضرت ممانی جان (اللہ آپ سے راضی ہو ) نے اپنے محترم شوہر کی وفات، حسرت آیات کے تیسرے ہی دن یہ مسودہ میرے حوالے کر دیا جس کے فورا بعد ہمیں قادیان چھوڑنا پڑا۔پاکستان آکر ممانی جان برابر مجھے اس مسودہ کی اشاعت کے متعلق لکھتی رہیں مگر مجھے بدقسمتی سے اس ضروری کام کے بجالانے کی توفیق نہ ملی۔حضرت ممانی جان کی وفات کے بعد ان کی دختر نیک اختر حضرت اُمّم متین مریم صدیقہ ایم اے حرم محترم حضرت خلیفہ ثانی ( اللہ آپ سے راضی ہو ) نے اپنے باپ کے اس مقدس ورثہ کی اشاعت کی طرف مجھے توجہ دلائی۔میرا وقت بھی اب آخر ہے اور میں بہت ہی سرعت کے ساتھ موت کی وادی کی طرف جارہا ہوں۔اس لئے سوچا کہ مرتے مرتے اگر یہ کام ہو جائے تو میری عین سعادت ہے۔اس لئے نہایت ضعف و ناتوانی اور اس بے حد کمزوری و ناطاقتی کے باوجود بیماریوں اور افکار کے نجوم میں جس طرح بھی بن سکا میں نے اس کام کو انجام دیا اور حضرت میر صاحب کے پرکیف ، اثر انگیز اور پُر معارف کلام کا یہ مجموعہ میں آج حضرت مریم صدیقہ کی