بُخارِ دل

by Other Authors

Page 10 of 305

بُخارِ دل — Page 10

10 تمہید استاذی المحترم حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے 1903ء سے شعر کہنے شروع کیے اور آخر وقت تک کچھ نہ کچھ کہتے رہے۔44 برس کے اس طویل عرصہ میں آپ نے بہت تھوڑی نظمیں کہیں مگر جو کچھ کہا بالعموم دین کی تائید احمدیت کی حمایت، اسلامی قدروں کی اشاعت، اصحاب جماعت کی نصیحت، بچوں کی تربیت، نوجوانوں کی اصلاح، اخلاق و موعظت کی تبلیغ اور پند و نصائح کی ترویج کے لئے کہا۔ان کی نظمیں خدا اور رسول اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عشق و محبت میں ڈوبی ہوئی ہوتی تھیں۔ان کا ناصحانہ اور صوفیانہ کلام بیحد ونشیں اور مؤثر ہوتا تھا اور جب وہ سلسلہ کے اخبارات میں چھپتا تھا تو احمدی احباب نہایت ذوق و شوق سے انہیں پڑھتے تھے۔حضرت میر صاحب کے پر کیف کلام کی مقبولیت اور شہرت کو دیکھ کر میں نے بخار دل“ کے نام سے آپ کے کلام کا مجموعہ 1928ء میں پانی پت سے شائع کیا جس میں بعض ابتدائی نظموں کو چھوڑ کر اس وقت تک کا کلام جمع تھا، بعد میں حضرت میر صاحب نے اور بہت سی نظمیں کہیں جو احمدی اخباروں میں مسلسل چھپتی رہیں۔اس عرصہ میں حضرت میر صاحب برابر مجھے لکھتے رہے کہ پانی پت چھوڑ کر قادیان آ جاؤ بالآ خر میں ان کے ارشادات کی تعمیل میں 1944ء میں مستقل طور پر قادیان آ گیا اور حضرت میر صاحب نے انتہائی شفقت کے ساتھ مجھے اپنے ساتھ اپنے مکان میں اپنے انتقال کے وقت تک رکھا اور اگر ہمیں قادیان سے