بُخارِ دل

by Other Authors

Page 9 of 305

بُخارِ دل — Page 9

9 66 تعارف شعر کی تعریف اس سے زیادہ نہیں کہ وہ باوزن ہو۔اس کے الفاظ عمدہ اور مضمون لطیف ہو۔میرے بزرگوں کو چونکہ شاعری سے مناسبت تھی اس لئے مجھ میں بھی کچھ حصہ اس ذوق کا فطرتی طور پر آیا ہے مگر اس طرح کہ دس دس بارہ بارہ سال کے عرصہ میں ایک شعر بھی نہیں کہتا پھر کچھ کہہ لیتا ہوں دوسرے یہ کہ میرے اشعار مطلب کے حامل ہوتے ہیں نہ کہ الفاظ کے۔میں ایک مضمون ذہن میں رکھ کر شعر کہتا ہوں اور الفاظ اس مضمون کے پابند ہوتے ہیں نہ کہ مضمون الفاظ کا اس لئے بجائے تغزل کے یہ اشعار نظم کی صورت رکھتے ہیں اور بجائے آمد کے ہمیشہ آؤزد کا رنگ ان میں ہوتا ہے۔میرا اُستاد کوئی نہیں۔نہ تخلص ہے۔شروع ( یعنی 1903ء) میں جب یہ شوق پیدا ہوا تو چند دفعہ آشنا کا تخلص استعمال کیا مگر پھر ترک کر دیا اور ہمیشہ بے تخلص ہی کے گزارا کیا۔میرے کلام میں بیشتر اشعار بہ سبب مذہبی ماحول اور دینی تربیت کے متصوفانہ رنگ کے ہیں اور سلسلہ احمدیہ کے مقاصد سے تعلق رکھتے ہیں۔میں کبھی کسی کا عمدہ مصرع یا شعر یا کسی غیر زبان کا لفظ اپنے شعر میں پیوند کر لینے سے نہیں ہچکچاتا تاہم سرقہ نہیں کرتا۔بہت زیادہ حصہ ان نظموں کا ایسا ہے جو دراصل اپنے لئے کہی گئی ہیں نہ کہ اوروں کے لئے۔میری دُعا ہے کہ خدا تعالیٰ ان اشعار کو ہمارے بچوں اور نوجوانوں کے لئے بھی مفید بنائے۔میر محمد اسماعیل الصفہ - قادیان 10 جون 1945ء