حضرت بُو زینب صاحبہؓ

by Other Authors

Page 28 of 35

حضرت بُو زینب صاحبہؓ — Page 28

حضرت یو زینب صاحبہ 28 شکایت۔جب خاکسار نے بی۔اے پاس کیا۔اس وقت ابا جان کے حالات ایسے نہ تھے کہ وہ میرے ولایت جانے کے اخراجات برداشت کر سکیں۔اس سے پہلے میاں مظفر احمد صاحب کے ولایت جانے کا انتظام ہو گیا تھا۔یو صاحبہ نے یہ نہ چاہا کہ میں اعلیٰ تعلیم سے محروم رہوں۔چنانچہ انہوں نے عمو صاحب (حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نوراللہ مرقدہ ) کو کہلا بھیجا کہ میرے اخراجات کی وہ خود ذمہ دار ہوں گی۔اور ان کو لکھ کر بھی دے دیا۔چنانچہ میں ولایت چلا گیا۔میرے علم میں ہے کہ ان کو اپنی ذمہ داری نبھانے کیلئے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب کوئی اللہ تعالیٰ پر تو کل کرتا ہے تو اللہ تعالی مدد بھی کرتا ہے۔میری پڑھائی پوری ہوگئی اور میں واپس آکر ایک اعلیٰ عہدہ پر فائز ہو گیا۔“ 66 حضرت کو صاحبہ ایک بے حد صابر و شاکر خاتون تھیں۔بڑے سے بڑے صدمہ اور کڑی سے کڑی بات پر بھی کوئی واویلہ نہ کرتیں۔ہر بات پر خدا تعالیٰ کی رضا پر راضی ہو جاتیں۔صاحبزادی امتہ الباری صاحبہ بیان کرتی ہیں۔کہ میں نے کبھی بھی کسی بے حد قریبی کی وفات پر بھی انہیں روتے نہیں دیکھا۔بس سر جھکا کر خاموش ہو جاتیں۔ایک چپ سی لگ جاتی تھی۔ان کی جوان بیٹی امتہ الود ودر صاحبہ B۔A کا امتحان دے کر فارغ ہوئی تھیں کہ دماغ کی رگ پھٹنے سے وفات پاگئیں۔اس غم کی شدت کا