حضرت بُو زینب صاحبہؓ — Page 29
حضرت یو زینب صاحبہ 29 29 اندازہ تو ہر کوئی کر سکتا ہے لیکن آپ نے اُف تک نہ کی، کوئی واویلہ نہ کیا ایک چپ سی آپ کو لگ گئی۔اس حادثہ کے بعد آپ بہت وہمی ہو گئی تھیں۔ایک خوف سا آپ کے دل میں ایسا بیٹھا کہ آپ نے اپنی سب سے چھوٹی صاحبزادی کو B A نہ کرنے دیا۔صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ :۔ہجرت ( پاکستان ) جماعت کے لئے اور افراد کے لئے ایک بڑا امتحان تھا۔مگر اللہ تعالیٰ نے وقت گزار ہی دیا۔بُو صاحبہ نے مشکل سے مشکل زمانہ میں بھی کبھی شکایت نہیں کی۔1962ء میں حضرت ابا جان کی وفات ہو گئی۔اس پر بھی ایسا صبر کا نمونہ دکھایا کہ انسان حیران ہوتا ہے۔“ ووو و صاحبہ صدقہ بہت دیتیں۔بلکہ اپنے بچوں کو بھی کہتیں کہ فلاں غریب ہے، اسے کچھ دے دو۔پھر جو اُن کی خدمت کرنے والے تھے، ان کا بھی خیال رکھتیں۔ہمیں بھی کہتیں کہ ان کو کچھ دے دو خاص طور پر جب کسی بچے کی شادی ہو۔میرے پر تو یہ ان کا احسان ہے کہ میں کسی سائل کو رد نہیں کرتا۔میں نے تو ان سے یہی سیکھا کہ انسان کسی کو کچھ دے کر غریب نہیں ہوتا۔“ حضرت کو صاحبہ بہت متقی اور پر ہیز گار تھیں آپ کی اضافی خوبیوں