حضرت بُو زینب صاحبہؓ

by Other Authors

Page 27 of 35

حضرت بُو زینب صاحبہؓ — Page 27

حضرت کو زینب صاحبہ 27 غرباء کا بہت خیال رکھتیں ، ان کی ہر قسم کی مدد کرتیں، جس جس قسم کے وہ لوگ ہوتے ان کی اس طرح کی مدد کرتیں۔نوکروں کو بھی نوکر خیال نہ کرتیں کبھی کسی نوکر کو کھانے پینے کی تنگی نہ ہوتی۔یو صاحبہ نوکروں کو ڈانٹ بھی لیتی تھیں۔مگر ان کی ڈانٹ اس قسم کی نہ تھی جس سے نوکروں کے دل میں گرہ بیٹھ جاوے یا اسے حقیقی دکھ ہو۔بو صاحبہ کسی کی برائی نہ کرتیں ، کوئی برائی کرتا بھی تو چپ ہو جاتیں۔میرے ماموں سے ان کو بہت پیار تھا۔( جوان کی اپنی والدہ سے تھے ) اور ان کے علاوہ ہمارے اور بھی ماموں خالائیں ہماری بڑی پھوپھی جان حضرت سیدہ نواب مبار که بیگم صاحبہ کی اولاد سے ہیں۔ان سے بھی بہت پیار تھا۔نواب محمد احمد خان صاحب، نواب مسعود احمد خان صاحب ایک عرصہ تک ہمارے گھر میں رہے۔مقصد ان کا تعلیم تھا۔ان کا بھی ویسا ہی خیال رکھا۔جیسا ہمارا کرتی تھیں۔میاں محمد احمد خان صاحب کے جہاں اور لطیفے تھے ایک یہ بھی لطیفہ ہے ایک مرتبہ وہ دن کے وقت گھر میں آئے۔اور کہنے لگئے تو فلاں گیس سے بہت بھوک لگتی ہے۔کو صاحبہ نے کہا۔گیس نہیں بلکہ آج تم نے کھانا ہی نہیں کھایا۔تو کہنے لگے ، اچھا!‘ بُو صاحبہ نے فورا کھانا منگوایا اور انہوں نے بیٹھ کر کھایا۔یو صاحبہ عمر اور میسر میں خوش رہتیں۔کسی سے شکوہ نہیں کیا نہ