حضرت بُو زینب صاحبہؓ — Page 21
حضرت یو زینب صاحبہ 21 کاٹتی ہے) اکثر خواتین آپ کو دعا کا کہنے کیلئے آتی تھیں۔آپ پردہ کی بھی بڑی سختی سے پابندی کرتیں۔یہاں تک کہ اپنے دونوں بزرگ جیٹھوں سے بھی پردہ کرتی تھیں۔فرض شریعت کے احکامات کی پابند تھیں۔آپ بہت صاحب الرائے تھیں۔حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کو آپ کی رائے پر بہت بھر وسہ تھا ، ایک بار جماعت میں کسی بزرگ نے سوال اٹھایا ، رمضان المبارک میں اکیسویں کی صبح کو اعتکاف بیٹھنا چاہیے کیونکہ اس دن سے آخری عشرہ شروع ہوتا ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کی بھی یہی رائے تھی لیکن حضور رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ! بُو صاحبہ سے پوچھ کر بتا ئیں۔اور ان کو کہلایا ، مجھے چونکہ دھندلا سا یاد ہے، لیکن آپ بتائیں ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں کب اعتکاف بیٹھا جاتا تھا۔بیسویں کی رات یا اکیسویں کی صبح ؟ تو ان کی حتمی طور پر یہ رائے تھی آپ کے زمانے میں بیسویں کی رات ہی بیٹھا جاتا تھا، ( کیونکہ بیسویں کی رات ہی اکیسویں کا چاند نکل آتا ہے، اور آخری عشرہ کی ابتداء شروع ہو جاتی ہے۔تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے یہ سن کر فیصلہ دے دیا کہ بیسویں کی رات کو اعتکاف بیٹھا جائے۔