حضرت بُو زینب صاحبہؓ — Page 20
حضرت کو زینب صاحبہ 20 20 آپ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہو ہونے کا شرف عطا فر مایا ! تو آپ نے بھی اللہ تعالی کے فضل سے اس رشتہ کو احسن طریق پر نبھایا، اور بغیر جتائے یا اس کا اظہار کئے آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل پیرار ہیں اور آپ کی یہ کوشش رہی کہ آپ کے کسی عمل یا کسی بات سے کبھی حضرت اقدس علیہ السلام یا آپ کے بزرگ والد حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی تربیت پر کوئی حرف نہ آئے۔آپ ایک متقی پرہیز گار خاتون تھیں۔بہت دعا گو اور عبادت گزار تھیں۔بچپن سے ہی آپ کو تہجد پڑھنے کا شوق تھا آپ کی بہن صاحبزادی محمودہ بیگم صاحبہ بتا یا کرتیں کہ راتوں کو اٹھ کر بہت لمبی لمبی تہجد کی نماز پڑھا کرتیں ایک مرتبہ بہت بیمار ہوگئیں تو ڈاکٹر نے حضرت نواب صاحب کو منع کیا اتنی چھوٹی سی عمر میں راتوں کو اتنی دیر تک اُٹھنے نہ دیا کریں۔والد صاحب نے پریشان ہو کر ایک بوڑھی دایا کو ان کے کمرے میں سلانا شروع کر دیا کہ نگرانی کرے کہ وہ آدھی رات کو اُٹھ کر عبادت نہ کریں مگر وہ اُٹھتیں ، اور دایا کو زور دیتیں ، وہ وضو کر نے جانے دے اور نماز پڑھنے دے جب وہ نہ مانتی تو اپنے بچپن کے انداز میں، زور ڈالتیں آخر اس نے تنگ آکر نواب صاحب کو شکایت کی وہ نہیں مانتیں اور اپنی بولی میں بولی ” نواب صاحب او تے چونڈیاں وڈ دی ائے“ (یعنی چٹکیاں