حضرت بُو زینب صاحبہؓ

by Other Authors

Page 15 of 35

حضرت بُو زینب صاحبہؓ — Page 15

حضرت کو زینب صاحبہ خوف بھی جاتا رہا۔500 15 آپ بہت متکلم خاتون تھیں۔کم آمدنی کے دنوں میں بھی گھر کو احسن طریق پر چلاتیں ، لین دین بھی رکھتیں ، گھر کی ، بچوں کی ، ملازمین کی ضروریات پوری کرتیں، ہجرت کے بعد خراب حالات میں بھی ان کے گھر میں ہمیشہ ایک رکھ رکھاؤ نظر آتا اور کبھی ان کے منہ سے حالات کی تنگی کا رونا نہیں سنا گیا ، ہمیشہ اپنا بھرم قائم رکھا ، اور وہ جو الہام ہے وہ با دشاہ آیا ، جہاں ان کے میاں حضرت مرزا شریف احمد صاحب د نیا داری سے بے نیاز ایک بادشاہ ٹھہرے وہاں ان کی بیگم ان کے گھر کی ملکہ تھیں۔حضرت یو زینب کو ہاتھ سے کام کرنے کی قطعاً ضرورت نہ تھی لیکن شوقیہ چند چیزیں وہ اپنے ہاتھ سے پکاتیں ، سب عزیز کہتے ہیں کہ ان کے ہاتھ کا بنا ہوا چھو لیہ (ہرے چنے ) جیسا لاکھ کوشش پر بھی کبھی کوئی بنا ہی نہیں سکا۔پھر دھوبی کو اپنی نگرانی میں کپڑے دیتیں، خود دیکھتیں کہ کتنے کپڑے گئے ہیں۔خود وصول کرتیں اور اپنی اپنی جگہ پر رکھتیں ، بیماری کی حالت میں بھی پورے گھر پر ان کی کڑی نگاہ ہوتی۔بات ان کے سلیقہ کی ہورہی تھی ، آپ کو پتہ ہے پھٹا ہوا کپڑا چونکہ کسی کو بھی پہنے کو نہیں دیا جاتا، لہذا اسے پھینٹنے کی بجائے اب اس سے کیا