حضرت بُو زینب صاحبہؓ — Page 14
حضرت کو زینب صاحبہ 14 الگ رکھتیں ، اور کسی اور کے برتن میں پانی پی لیں ، ناممکن ! ان کے بھتیجے بھانجے انہیں اس معاملہ میں چھیڑتے بھی رہتے۔لیکن وہ با وجود چڑنے کے تحمل سے مسکرا کر خاموش رہتیں ، ان کے بھتیجے مرزا منیر احمد صاحب انہیں چھیڑ نے کیلئے کہتے کہ یو اگر اگلے جہان میں جنت میں اللہ تعالی نے مجھ سے پوچھ لیا کہ اپنی خواہش بتاؤ تو میں کہوں گا میرے اللہ بس ایک بار بُو کو میرا جھوٹا پانی پلا دے۔وہ ہنس کر خاموش ہو جاتیں۔66 اپنے اس وہم کے بارہ میں ایک دن اپنی پوتی صاحبزادی امتہ القدوس بیگم صاحبہ بنت حضرت مرزا منصور احمد صاحب مرحوم کو بتایا کہ وہ ایک بار بیمار پڑگئیں کافی عرصہ بیمار ہیں۔اور ڈاکٹروں کو شبہ تھا کہ یہ ٹی بی نہ ہو، کیونکہ آپ کے تفصیال میں یہ مرض تھا ، اور اس زمانہ میں ٹی بی کا کوئی خاص علاج بھی نہ نکلا تھا اس لئے انہوں نے اپنے برتن ہی الگ کر لئے تا کہ اگر واقعی ٹی بی ہے تو کسی اور کو برتنوں کی وجہ سے نہ لگے۔کہنے لگیں ” میں نے سوچا کہ پہلے اس کے کہ لوگ اس بات کا وہم کریں میں خود ہی کیوں نہ اپنے برتن الگ کرلوں “ 66 پھر یہ ان کا طریق ہی ہو گیا کہ گھر ہو یا سفر وہ اپنے برتن الگ رکھتیں ، خودداری کا بھرم بھی قائم رہا اور کسی اور کو بیماری منتقل ہونے کا