بے پردگی کے خلاف جہاد — Page 21
اُٹھا۔ایک بڑی عمر کی بیوہ عورت جس کا ایک ہی بچہ تھا، اپنے گھر سے یہ نظارہ دیکھ رہی تھی۔اس کو اس قدر جوش آیا کہ اس نے اپنے بیٹے کا نام لے کر پکارا کہ اے میرے بیٹے ! تو جواب کیوں نہیں دیتا۔کیا تیرے کان میں خلیفہ وقت کی آواز نہیں پڑی ؟ چنانچہ وہ اُٹھ کھڑا ہوا اور کہا میں حاضر ہوں۔جس طرح بارش کا ایک قطرہ پہلے گرتا ہے اور پھر موسلا دھار بارش برسنے لگتی ہے اس طرح جتنے بھی نو جوان وہاں موجود تھے، وہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ہم بھی حاضر ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب مجھ تک یہ اطلاع پہنچی تو میں نے اپنے خدا کے حضور ایک دُعا کی۔میں نے کہا اے میرے اللہ ! اس بیوہ عورت نے میری آواز پر اپنا اکلوتا بیٹا پیش کر دیا ہے اور حال یہ ہے کہ وہ شادی کی عمر سے بھی گزر چکی ہے اور پھر اولاد کی کوئی توقع نہیں ہے۔میں تیری عظمت اور جلال کی دُہائی دیتا ہوں کہ اگر قربانی لینی ہے تو میرے بیٹوں کی لے۔وہ بے شک ذبح ہو جائیں۔لیکن اس کا بیٹا ضرور بچایا جائے۔تو یہ ہیں وہ احمدی خواتین اور مستورات جو عہدِ بیعت کو نبھانے والی ہیں۔پس اگر ہماری کچھ بیٹیاں ان شدتوں اور سختیوں کی وجہ سے رُوٹھ کر اور منہ پھیر کر باہر جاتی ہیں تو مجھے ان کے جانے کا غم تو ضرور ہوگا۔لیکن دین کی غیرت مجھے بتاتی ہے کہ خدا کے دین کو ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اگر مسیح موعود علیہ السلام کی ایک بیٹی جائے گی تو خدا ایسی سینکڑوں بیٹیاں عطا فرمائے گا جو زیادہ وفادار ہوں گی، زیادہ حیادار ہوں گی ، دین کی خاطر زیادہ قربانیاں کرنے والی ہوں گی۔قانتات ہوں گی ، حافظات ہوں گی اور مرتے دم تک اپنے عہد بیعت کو نبھانے والی ہوں گی۔ہاں میرے دل کے غم اپنی جگہ ہوں گے۔کیونکہ میں یہ بھی تو برداشت نہیں کر سکتا کہ ایک بچی بھی ضائع ہو جب 21