بے پردگی کے خلاف جہاد

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 22 of 29

بے پردگی کے خلاف جہاد — Page 22

فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وقت آ گیا ہے فلاں کو جماعت سے نکالا جائے تو کیا آپ کا خیال ہے کہ خلیفہ وقت کو اس کی تکلیف نہیں پہنچتی ؟ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ تمام مومن ایک بدن کی طرح ہیں۔ایک مومن کو دُکھ پہنچے تو سارے مومنوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔تو کیا خلیفہ وقت کو آپ ایمان کے اس ادنی معیار سے بھی نیچے بجھتی ہیں۔جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ جب وہ ایسا فیصلہ کرتا ہے تو اس کا دل خون ہو جاتا ہے۔وہ دُعائیں کرتا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اور گریہ وزاری کرتا ہے کہ اے خدا! اس شخص کو بچالے اور مجھے ایسا وقت نہ دیکھنا پڑے کہ میرے ہاتھ سے کوئی احمدی بچی یا احمدی بھائی ضائع ہو۔ہاں اس کے باوجود اگر کوئی ضائع ہوتا ہے تو پھر ایمانی غیرت کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کی پرواہ نہ کی جائے اور میں آپکو کھول کر بتا دیتا ہوں کہ پھر ایسے لوگوں کی کوئی پرواہ نہیں کی جائے گی۔جو زندگی انہوں نے اپنے لئے پسند کی ہے اس کا نقشہ میں نے آپ کے سامنے کھینچا ہے۔اس دُنیا میں بھی عذاب الیم کے سوا ان کے لئے کچھ نہیں ہوگا۔میری کوئی بھی ذاتی حیثیت نہ سہی ، مگر میں اس منصب پر فائز ہوں جس کے لئے خدا ہمیشہ غیرت دکھاتا رہا اور ہمیشہ غیرت دکھائے گا۔ایک دن بھی خلافت کا ایسا نہیں آئے گا کہ خدا اپنے خلیفہ کے لئے غیرت نہ دکھا رہا ہو۔گوئیں ایک عاجز اور حقیر انسان ہوں مگر منصب خلافت عاجز اور حقیر نہیں ہے۔اگر آپ اپنے عہد بیعت میں صادق اور بچی ہوں گی تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے آپ پر رحمتیں نازل فرمائیں گے اور ہمیشہ آپ کو آپ کی نسلوں کی خوشیاں دکھاتے چلے جائیں گے۔پس آپ اپنے مقام کو پہچانیں اور سمجھیں کہ آپ کن لوگوں کی اولادیں ہیں اور کس 22