بے پردگی کے خلاف جہاد

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 20 of 29

بے پردگی کے خلاف جہاد — Page 20

اسے جتانا ہے۔اس لئے ووٹ دینے ضرور جاؤں گی۔انہوں نے کہا اچھا پھر بہتر یہی ہے کہ ہم باہر تالا لگا دیتے ہیں اور تمہیں گھر میں بند کر جاتے ہیں۔چنانچہ تالا لگا کر سارے گھر والے چلے گئے۔ان کے جانے کے بعد وہ عورت اٹھی اور اس نے واویلا شروع کر دیا۔کسی ہمسائے کے کان میں آواز پڑی وہ آیا اور اُس نے تالا توڑا۔اس عورت نے کہا کہ اور تو کوئی بات نہیں مجھے تھوڑی دیر کے لئے باہر جانا ہے۔یہ کہہ کر وہ وہاں سے روانہ ہوئی۔جب قافلہ ووٹ دے کر واپس آرہا تھا تو اس نے ایک جھاڑی سے خون بہتا دیکھا۔پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ تو انکے گھر کی ہی بچی تھی جسے وہ اندر بند کر آئے تھے اس میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ چل سکے۔چنانچہ رستے میں اس کا اتنا خون بہا اور اتنی Bleeding ہوئی کہ وہ مجبوراً جھاڑی میں چُھپ کر لیٹ گئی اور وہیں بے ہوش ہو گئی چنانچہ یہ لوگ اس کو اُٹھا کر واپس گھر لائے۔پس وہ لوگ اس طرح بیعتیں کیا کرتے تھے۔اس طرح اطاعت کے تقاضے پورے کیا کرتے تھے وہ اپنے ایمان میں خالص تھے۔ان کے اندر جھوٹ کی کوئی ملونی نہیں تھی۔ایسی ایسی مائیں تھیں جنہوں نے اسلام کی خاطر اور بیعت کا حق ادا کرنے کے لئے قربانی کے حیرت انگیز مظاہرے کئے۔۔۔۔۔حضرت مصلح موعودؓ نے جماعتوں میں پیغام بھجوانے شروع کئے کہ آج قوم اور ملک کو ایک خاص ضرورت ہے۔اس لئے جو بھی فوج میں بھرتی ہو سکتا ہے اسے چاہئے کہ وہ بھرتی ہو۔ایک جگہ آپ کے آدمی گئے اور وہاں اس بھرتی کے لئے اعلان کیا۔بہت بڑا احمدی گاؤں تھا۔لیکن کوئی بھی تیار نہ ہوا۔انہوں نے پھر اعلان کیا مگر کوئی نہ 20